Independence Day Best Urdu Speech Free download

 Independenc Day Best Urdu Speech Free download

Pakistan came into survival on 14 August 1947. It was the result of hard struggle of the Muslims of Subcontinent in the leadership of Quaid e Azam MUHAMMAD ALI JINNAH.  Independence Day Best Urdu Speech Free download

Peoples of Pakistan celebrate Youm-e-Azadi in full swing as school children, citizens, officials with zeal and zest.

Speeches , national songs are main part of our celebrations. Specifically in Educational Constitutions students need  speeches for competitions. There is a best urdu Speech in context of 14 August 1947 Independence Day Best Urdu Speech Free download

Independence Day Best Urdu Speech Free download

صدر محترم معزز مہمانان گرامی اور عزیز ساتھیو!
السلام علیکم !
سوچتا ہوں کے آج اپنا جشن آزادی کیسے مناؤں؟
فکر کے شمشان گھاٹ میں ضمیر کی جلتی چتا پہ نوحہ کنائ کروں۔ یاضمیر کے ساتھ ستی ہوجانے والی غیرت و حمیت پر  سراپا ماتم ہو جاؤ ں۔ گریباں کے چاک ہونے پر آہ و بکا کروں
یا دامن کے تار تار ہو جانے پر نالہ و شیون غربت و افلاس کے بھڑکتے شعلوں کو دیکھوں۔
یا مایوسییت اور قنوطیت کی چنگاریوں سے پہلوتہی کرو ں۔
جناب والا !
گرد وپیش پر نگاہ دوڑاؤں تو کہیں ہوس کی لہریں نظر آتی ہیں تو کہیں تعصب کی جھلسا دینے والی آگ کے مینارے
کہیں آہوں کے المناک  شرارے ، تو کہیں آنکھوں میں بھڑکتے انگارے،
کہیں حرماں نصیبی کے طعنے ہیں، تو کہیں بے کس و لاچار بیچارے
کہیں گہنائے ہوئے خورشیدہیں۔ تو کہیں کملائے ہوئے ستارے
کہیں زلزلہ زدگان ہیں تو کہیں سیلاب میں گھرے غم کے مارے
جبرو استبداد کی اس تیرگی میں ٹھوکریں کھاتی ہوئی نئی نسل پکار پکار کر کہہ رہی ہے

اہل دل ملتے نہیں اہل نظر ملتے نہیں

ظلمت دوراں میں خورشید سفر ملتے نہیں
منزلوں کی جستجو کا تزکرہ بے سود ہے
ڈھونڈنے نکلو تو اب اپنے ہی گھر ملتے نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈھونڈنے نکلو تو اب اپنے ہی گھر ملتے نہیں
جناب والا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوچنے کی بات ہے۔۔۔ سوچنے کی بات ہے۔۔۔!
کہ آج ہم کس بات کا جشن منائیں؟
جشن تو وہ مناتے ہیں
جن کے ذہنوں کو حالات کے خونی پنجوں نے جکڑا نہ ہو،
جنہوں نے حالات کا جبر سہا نہ ہو،
جنہوں نے ایک مذہب کو بہتر ۷۲ فرقوں میں بٹتے دیکھا نہ ہو،
جنہوں نے مطلب پرستی، نسل پرستی اور زر پرستی کو دیکھا نہ ہو۔۔۔

لیکن عالی وقار۔۔!
جب قوم مردہ ضمیری کا ثبوت دینے لگے، جب قوم کی عفت ماب بیٹی کو اپنے ہی گھر سے اٹھا کر غیروں کے حوالے کر دیا جائے، جب حاکم وقت کی کھلی کچہری میں لوگ خود کو آگ لگا لیں، جب مساجد اور امام بارگاہوں میںخون کی ندیاں بہنے لگ جائیں، جب نگاہوں کے سامنے بم حملوں میں شہید ہونے والے معصوم ہم وطنوں کے جنازے اٹھنے لگیں،
تو
عالی وقار۔۔۔ایسے میں دل سے آہیں اور منہ سے سسکیاں ہی نکلتی ہیں، جشن نہیں مناتے، جشن نہیں مناتے

دوستو۔۔۔!
مالک ارض وسما کے آگے توبہ کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، التجاؤں کی مہلت اب بھی باقی ہے،
ضرورت ہے۔۔۔قوت ایمانی کی،
ذوق یقین کی، شوق تماشا کی ، ذوق تقاضا کی،اور دیدہ و بینا کی،۔۔۔۔
بے آسرا ماؤں ، بہنوں، بیٹیوں، بچوں اور بزرگوں کی آنکھیں ھماری طرف دیکھ رہی ہیں، ہمیں انکی بے نور آنکھوں میں امید کے دیئے جلانے ہیں۔
دوستو آؤ، یوم آزادی کے اس مبارک موقع پر انصار مدینہ کی روایتوں کے امین بن کر ایثارو قربانی کی نئی داستانیں رقم کرتے ہیں۔
جناب والا۔۔!
مت بھولئے یہ میرا اور آپکا پاکستان۔۔۔
یہ پاکستان کلمہ طیبہ کی جاگیرہے،
یہ پاکستان سورہ رحمان کی تفسیر،
یہ پاکستان ماؤں، بہنوں کی دعاؤں کی تاثیر،
یہ پاکستان قائد اور اقبال کے خوابوں کی تعبیرہے،  یہ پاکستان امت مسلمہ کی تقدیر ہے، ھمیں اس پاکستان کی خاطر ایک ہونا ہو گا،  کیونکہ یہ انگلیاں تنہا کچھ بھی نہیں انکو ملایا جائے تو طاقت ور مٹھی بنتی ہے، آج ہمیں ایک مٹھی کی طاقت بن کر پاکستان کو بچانا اور سنوارنا ہو گا،
کیونکہ۔۔۔۔۔۔۔
کتنی قربانیاں دے کے یہ وطن پایا ہے

پھول اجڑے ہیں ہزاروں تو چمن پایا ہے

یہ چمن اپنے ہی ہاتھوں سے نہ برباد کرو

اس میں شامل ہے شہیدوں کا لہو یاد کرو،
اس میں شامل ہے شہیدوں کا لہو یاد کرو،۔۔۔
والسلام۔۔۔۔۔۔شکریہ